امام مزنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت سید نا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس ان کے مر ض الموت میں حاضرہو اتو پوچھا :''آپ کا حال کیسا ہے ؟'' فرمایا: '' دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں،دو ستو ں سے جدا ہونے والا ہوں، موت کا پیالہ پینے والا ہوں ، اپنے بر ے اعمال سے ملنے والاہوں، اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہونے والاہوں اورمجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میری رو ح جنت میں داخل ہوگی کہ میں اسے مبارکباد دوں یاجہنم میں ڈالی جائے گی کہ اس سے تعزیت کرو ں۔'' پھر آپ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رودئیے اوریہ اشعار پڑھنے لگے :
وَلَمَّا قَسَا قَلْبِیْ وَضَاقَتْ مَذَاھِبِیْ جَعَلْتُ الرَّجَا مِنِّیْ لِعَفْوِکَ سُلَّمًا
تُعَاظِمُنِیْ ذَنْبِیْ فَلَمَّا قَرَنْتُہُ بِعَفْوِکَ رَبِّیْ کَانَ عَفْوُکَ اَعْظَمًا
فَمَازِلْتَ ذَا عَفْوٍ عَنِ الذَّنْبِ لَمْ تَزَلْ تَجُوْدُوَتَعْفُوْمِنَّۃً وَّتَکَرُّمًا
فَلَوْلَاکَ لَمْ یَنْجُ مِنْ اِبْلِیْسَ عَا بِدٌ وَکَیْفَ وَقَدْاَغْوٰی صَفِیَّکَ آدَمًا
ترجمہ:(۱)جب میرا دل سخت ہوگیااورمیرے راستے تنگ ہوگئے تومیں نے تجھ سے معافی کی امید کوواسطہ بنالیا ہے۔
(۲)مجھے اپنے گناہ بہت بڑے لگتے تھے ،مگراے رب عزوجل! جب میں نے ان کو تیرے عفو ودرگزرسے ملایا تو تیرے عفوودرگزر کوبہت بڑاپایا ۔