تھا۔'' پھر وہ کہنے لگا :''اے ذوالنون ! کیا آپ یہ گمان کررہے ہیں کہ آپ نے انہیں صحراء میں دفن کردیاتھا ،خداعزوجل کی قسم ! میرے والد صاحب کو سدرۃ المنتہیٰ پر اٹھا لیا گیا ہے، اب آپ میرے ساتھ میری دادی کے پاس چلئے۔''
پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے گھرلے گیا جب وہ مکان کے دروازے پر پہنچا تو آہستہ سے دستک دی۔ ایک بوڑھی عورت باہر نکلی، جب اس نے مجھے دیکھا تو بولی:''میرے حبیب اور میر ی آنکھوں کی ٹھنڈ ک کی زیارت سے مشرف ہونے والے کوخوش آمدید۔'' میں نے پوچھا :''آپ کو کس نے بتا یا کہ میں نے انہیں دیکھا ہے ؟'' وہ کہنے لگی :'' اسی نے جس نے یہ بتا یا ہے کہ تم نے اسے دفن کیا ہے اور تمہارا کفن تمہیں واپس لوٹادیا جائے گا۔ اے ذوالنون ! مجھے اپنے رب عزوجل کی عزت وجلال کی قسم ! اللہ عزوجل میرے بیٹے کے بوسیدہ لباس پرفرشتو ں کے سامنے فخر فرمارہاہے ۔''پھر اس نے پوچھا:''اے ذوالنون!یہ تو بتا ؤ کہ تم نے میرے بیٹے ،میری آنکھوں کی ٹھنڈ ک اور دل کے ٹکڑے کو کیسے رخصت کیاتھا ؟'' میں نے کہا کہ'' میں نے اسے بے آب وگیاہ جنگل میں ریت اور پتھرو ں کے درمیان تنہا چھوڑ دیاتھا، اس نے اپنے پروردگار،ربِّ غفار عزوجل سے جو امید باندھ رکھی تھی وہ پوری ہوگئی ۔''
جب اس بڑھیا نے یہ بات سنی تو اس نوجوان کو اپنے سینے سے چمٹا لیا اور وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔میں نہیں جانتا کہ انہیں آسمان نے اٹھالیا ،یا زمین شق ہوئی اور دونوں اس میں سماگئے ۔میں انہیں گھر کے مختلف گو شو ں میں تلاش کرتا رہا مگر وہ نہ ملے۔ پھرمیں نے ہاتف غیب سے آواز سنی ،ایک کہنے والا کہہ رہاتھا:'' اے