| آنسوؤں کا دریا |
زیارت سے فارغ ہونے کے بعد میں نے بغداد شہر کا رُخ کیا اور عید کے دن بغداد پہنچا ۔میں نے وہاں کچھ بچو ں کو کھیلتے ہوئے پایا، انہوں نے مختلف رنگو ں کے لباس پہن رکھے تھے۔ جب میں نے نظردوڑائی تو اس نوجوان کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے پایا جسے کوئی قیمتی چیز بھی علاَّم الغیوب عزوجل کے ذکر سے غافل نہ کرسکتی تھی۔ اس کے چہرہ پرغم کے آثار واضح تھے اور اس کے رخساروں پر آنسوؤں کی وجہ سے دو لکیریں پڑگئیں تھیں وہ یہ اشعار پڑ ھ رہاتھا:
اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ لِلْعِیْدِ قَدْ فَرِحُوْا وَقَدْفَرِحْتُ اَنَا بِالْوَاحِدِ الصَّمَدِ اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ لِلْعِیْدِ قَدْ صَبَغُوْا وَقَدْصَبَغْتُ ثِیَابَ الذُّلِّ وَالْکَمَدِ اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ لِلْعِیْدِ قَدْ غَسَلُوْا وَقَدْغَسَلْتُ اَنَابِالدَّمْعِ لِلْکَبِدِ
ترجمہ:(۱)تمام لوگ عید کی خوشیوں میں مگن ہوگئے اور میں واحدوبے نیاز اللہ عزوجل سے خوش ہوں۔
(۲)سب لوگوں نے عید کے لئے کپڑے رنگے اور میں نے ذلت اوربدلی رنگت والے کپڑے رنگے ہیں۔
(۳)تمام لوگوں نے عید کے لئے غسل کیاہے اور میں نے جگرکو آنسوؤں کے ساتھ غسل دیاہے۔
حضرت سیدنا ذوالنون ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اسے سلام کیا تو اس نے سلام کا جواب دیا اور کہا:'' والد گرامی کے قاصد کو خوش آمدید ۔'' میں نے پوچھا:''تمہیں کس نے بتا یا کہ میں تمہارے والد صاحب کا قاصدہو ں ؟''اس نے جواب دیا :'' اسی نے جس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ آپ نے انہیں صحراء میں دفن کیا