Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
51 - 303
سے زیادہ میٹھا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا:'' اے ذوالنون! کھاپی لو کیونکہ تمہارا بیت الحرام پہنچنا نہایت ضرو ری ہے، مگر اے ذوالنون! میرا ایک کام ضرور کرنا اگر تم میرا کام کردوگے تو تمہیں اس کا اجرو ثواب ملے گا ۔''میں نے پوچھا:''وہ کام کیا ہے؟'' فرمایا : '' جب میں مرجاؤ ں تو مجھے غسل دے کر دفنا دینا اور ان وحشی پرندوں سے چھپا کر یہاں سے چلے جانا پھر جب تم حج ادا کرلو تو بغداد شہرچلے جانا، جب تم باب زعفران میں داخل ہوگے تو تمہیں وہاں کچھ بچے کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے انہوں نے مختلف رنگوں کے لباس پہن رکھے ہوں گے تم وہاں ایک کمسن جوان کو پاؤ گے جسے اللہ عزوجل کے ذکر سے کوئی چیز غافل نہ کرتی ہوگی، اس نے کپڑا کمر پر باند ھ رکھا ہوگا او ردوسرا کندھے پر رکھا ہوگا ،اس کے چہرے پر آنسوؤں کی وجہ سے لکیریں پڑگئی ہوں گی، تم اس سے ملنا وہ میرا بیٹا اور میر ی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے میرا سلام کہنا۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' جب وہ بات کر کے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں یہ کلمہ
اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ
پڑھتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ایک آہ بھری اور اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔''

    میں نے
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
پڑھا۔ میرے سامان میں ایک قمیص تھی جسے میں نے بہت سنبھال کر رکھاتھا ۔پھر میں نے انہیں اس پانی سے غسل دیا اور کفن پہنا کر ریت میں دفنادیا اور بیت الحرام کی طرف چل دیا ۔مناسک ِحج ادا کرنے کے بعد حضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ انور کی زیارت کے لئے روانہ ہوا۔
Flag Counter