ایک بیابان میں پہنچا تو میرازادِ راہ ختم ہوگیا۔جب میں ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تو اچانک مجھے صحراء میں ایک گھنا درخت نظرآیا جس کی شاخیں زمین پر لٹک رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ مجھے اس درخت کے سائے میں بیٹھ جانا چاہيے یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا حکم پورا ہوجائے(یعنی مجھے موت آجائے)۔ جب میں اس درخت کے قریب پہنچا اوراس کے سائے میں بیٹھنے کاارادہ کیا تو اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی نے میرے چمڑے کا تھیلا پکڑ لیا جس کی وجہ سے اس میں بچا کھچا پانی بہہ گیاجس سے مجھے بچنے کی کچھ امید تھی ۔ اب تو مجھے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا، لہذا! میں اس درخت کے سائے میں گر کر ملک الموت علیہ السلام کا انتظار کرنے لگا تاکہ وہ آکرمیری روح قبض فرمالیں ۔
اچانک میں نے ایک غمگین آواز سنی جو کسی غمزدہ کے دل سے نکل رہی تھی وہ شخص کہہ رہاتھا کہ'' اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ومولا عزوجل ! اگر تیری رضا اسی میں ہے تو اس میں اضافہ فرما،تا کہ اے ارحم الراحمین! تو مجھ سے راضی ہوجائے۔'' یہ سن کرمیں اٹھا اور اس آواز کی سمت چل دیا تو میں نے ایک حسین وجمیل شخص کو دیکھا جوریت پر پڑا ہواتھا اور بہت سے گدھ اسے گھیرے ہوئے تھے اوراس کا گو شت نوچنا چاہتے تھے۔ میں نے اسے سلام کیا تو اس نے سلام کا جواب دے کر کہا کہ'' اے ذوالنون ! جب زادِ راہ ختم ہوگیا اور پانی بہہ گیا تو تُونے ہلاکت اور فنا کا یقین کرلیا ۔''
میں اس کے سر ہانے بیٹھ گیا اور اس کی حالت دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ اچانک کھانے کا ایک پیالہ میرے سامنے رکھ دیاگیا پھر اس شخص نے اپنی ایڑھی زمین پر رگڑ ی تو ایک چشمہ پھوٹ پڑا اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد