| آنسوؤں کا دریا |
پیارے اسلامی بھائیو!
کب تک (نیک)اعمال میں سستی کرو گے ؟ اور کب تک جھوٹی خواہشات کی تکمیل کی حرص رکھوگے؟ تم مہلت سے دھوکا کھاتے ہو اور موت کے حملے کویاد نہیں کرتے ہو ،جسے تم نے جنا ہے (یعنی اولاد)وہ مٹی کے لئے ہے او رجوکچھ تعمیر کیاہے (یعنی مکان وغیرہ) وہ ویران ہونے کے لئے ہے اور جو کچھ تم نے جمع کیا ہے (یعنی مال ودولت) وہ ختم ہونے کے لئے ہے اور تمہارے عمل قیامت کے دن کے لئے ایک اعمال نا مے میں محفوظ ہیں ۔
چنداشعاروَلَوْأَنَّا اِذَا مُتْنَا تُرِکْنَا لَکَانَ الْمَوْتُ رَاحَۃَکُلِّ حَیّ وَلٰکِنَّا اِذَا مُتْنَا بُعِثْنَا وَنُسْأَلُ بَعْدَھَا عَنْ کُلِّ شَیْیئ
ترجمہ:(۱) اگر ہم مرنے کے بعد(یونہی)چھوڑ دئیے جائیں تو پھرموت ہرزندہ کے لئے راحت بن جائے۔
(۲) مگر جب ہم مریں گے تودوبارہ اٹھائے جائيں گے اور اس کے بعد ہرشے کے بارے میں ہم سے پوچھاجائے گا۔گناہ کے دس نقصانات:
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہرگز دھوکے میں نہ پڑنا: