Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
46 - 303
چمکی تو میں نے فوراً اپنے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے پھر میں نے اپنے سرپرایک منادی کو ندا دیتے ہوئے سنا جوانسانوں کے کلام کے مشابہ نہ تھی،وہ ندا یہ تھی:
لَبَّیْکَ عَبْدِیْ وَاَنْتَ فِیْ کَنَفِیْ 		وَکُلُّ مَاقُلْتَ قَدْ قَبِلْنَاہُ

صَوْتُکَ تَشْتَا قُہُ مَلَائِکَتِیْ		وَحَسْبُکَ الصَّوْتُ قَدْ سَمِعْنَاہُ

اِنْ ھَبَّتِ الرِّیْحُ مِنْ جَوَانِبِہِ		خَرَّ صَرِیْعًالِّمَا تَغَشَّاہُ

ذَاکَ عَبْدِیْ یَجُوْلُ فِیْ حُجُبِیْ		وَذَنْبُکَ الْیَوْمَ قَدْ غَفَرْ نَاہُ
ترجمہ:(۱)اے میرے بندے !میں موجودہوں اورتو میرے حفظ وامان میں ہے اور تو نے جو بھی دعا کی ہم نے اسے قبول فرمالیا ہے۔

    (۲)میرے ملائکہ تیری آوازسننے کا اشتیاق رکھتے ہيں،اورتجھے یہ صداکافی ہے جسے ہم نے سن لیا ۔

    (۳)اگر اس(صدا) کے گرداگرد ہوا چل پڑے تواس میں پچھاڑنے والے کی طرح آوازپیداہوجائے کیونکہ تونے (اس صدامیں)ایسی ہی کیفیت کوپوشیدہ کررکھاہے ۔

    (۴) میرایہ بندہ میرے قرب کے پردوں میں رہتاہے،اورآج ہم نے تیرا گناہ معاف فرمادیا۔

     حضرتِ سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے کہا : ''ربِّ کعبہ کی قسم! یہ تو حبیب کی اپنے حبیب سے مناجات ہے۔''پھر میں اس کی ہیبت سے غش کھاکر منہ کے بل گرپڑا۔ جب مجھے اِفاقہ ہواتو میں فرشتوں کی فضاء میں اُترنے کی آواز سن رہا تھا اور زمین وآسمان کے درمیان ان کے پروں کی پھڑپھڑا ہٹ سنائی دے رہی تھی ۔میں سمجھا کہ شاید آسمان زمین کے قریب ہوگیا ہے اور میں نے ایسا نور
Flag Counter