| آنسوؤں کا دریا |
کے ولیوں میں سے کوئی ولی ہے تو میں اس نوجوان کے قریب گیا تاکہ سن سکوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو میں نے اسے یہ اشعار پڑھتے ہوئے پایا :
عَلَیْکَ یَا ذَاالْجَلَالِ مُعْتَمَدِیْ طُوْبٰی لِمَنْ کُنْتَ اَنْتَ مَوْلَاہُ طُوْبٰی لِمَنْ بَاتَ خَائِفاً وَجِلاً یَشْکُوْاِلٰی ذِیْ الْجَلَالِ بَلْوَاہُ وَمَابِہٖ عِلَّۃٌ وَلَا سَقَمٌ اَکْثَرُ مِنْ حُبِّہِ لِمَوْلَاہُ اِذَا خَلَا فِيْ ظِلَامِ اللَّیْلِ مُبْتَھِلًا اَجَابَہُ اللہُ ثُمَّ لَبَّاہُ وَمَنْ یَنَلْ ذَا مِنَ الْاِلٰہِ فَقَدْ فَازَبِقُرْبٍ تَقِرُّ عَیْنَاہُ
ترجمہ:(۱)اے اللہ عزوجل ! میرابھروسہ واعتمادتجھ ہی پرہے ، خوشخبری ہے اس کے لئے جس کا تو مددگار ہے ۔
(۲) خوشخبری ہے اس کے لئےجو خوفِ(خداعزوجل)میں رات گزارتا ہے ،اپنی مصیبتوں کی فریاد اسی ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں کرتا ہے۔
(۳)اُسے کوئی بیماری یاتکلیف اپنے مولیٰ عزوجل کی محبت سے بڑھ کرنہیں ہے ۔
(۴)جب رات کے اندھیرے میں تنہاعا جزی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی (دعا) سنتا اور قبول کرتا ہے۔
(۵)اور جسے اللہ عزوجل کی طرف سے یہ سعادت ملی وہ ایساقُرب پالینے میں کامیاب ہوگیاجس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ۔
حضرتِ سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ مسلسل ان اشعار کی تکرار کررہاتھا اور روئے جارہاتھا۔ اس گریہ وزاری پر ترس کھاکر میں بھی رونے لگا۔ اسی اثناء میں میرے سامنے نظر یں اچک لینے والی کڑک دار بجلی جیسی روشنی