Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
44 - 303
یومِ حساب کی دہشت:
     حضرت سیدنا علی بن محمدبن ابراہیم صفارعلیہ رحمۃ اللہ الغفَّارسے روایت ہے کہ ایک رات میں حضرتِ سیِّدُنا اسود بن سالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ مسلسل یہ اشعار پڑھے جارہے تھے اور روتے جارہے تھے ۔
اَمَامِیْ مَوْقِفٌ قُدَّامَ رَبِّیْ			یُسَائِلُنِیْ وَیَنْکَشِفُ الْغَطَا

وَحَسْبِیْ أَنْ اَمُرَّ عَلٰی صِرَاطٍ 		کَحَدِّ السَّیْفِ اَسْفَلُہٗ لَظٰی
ترجمہ:(۱)اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں محشرکامیدان میرے سامنے ہے ، وہ مجھ سے سوال کریگا اورپوشیدہ رازکھل جائے گا۔

    (۲)اورمیرے لئے تواتناہی کافی ہے کہ اُس پل (صراط)سے گزروں جوکہ تلوارکی دھارکی طرح ہے اوراس کے نیچے دوزخ ہے ۔

پھرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک چیخ ماری اور صبح تک آپ پرغشی طاری رہی ۔
(تا ریخ بغدادللخطیب اسود بن سالم، رقم ۳۴۹۸ ،ج ۷ ، ص ۴۰بتصرّف)
ندامت سے گناہوں کاازالہ کچھ توہوجاتا

     ہمیں رونابھی توآتانہیں ہائے ندامت سے (ارمغان مدینہ)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

    اسی طر ح حضرتِ سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں کوفہ کی مسجد کی طرف چلا۔جب میں مسجد کے قریب پہنچا تو ایک نوجوان کو سجدے میں گرے ہوئے پایا۔ وہ گریہ وزاری میں مشغول تھا میں سمجھ گیا کہ یہ اللہ عزوجل
Flag Counter