Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
42 - 303
ترجمہ:(۱)کُوچ (یعنی موت)کا وقت آ پہنچا ،کچھ اس کے لئے فکر کرکہ تو نے بے خوف کردینے والی چیزوں کو نہیں دیکھا ۔

    (۲)آج یاکل پرگھمنڈ نہ کر کیونکہ بہت سے گھمنڈکرنے والے خطرہ سے دوچارہیں۔
اَورَاد میں مشغولیت:
    حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ العلی ہروقت وظائف واوراد میں مشغول رہتے تھے اورجب ان کا کوئی وِردرہ جاتاتو اسے دہرانے پر قدرت نہ پاتے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
آرام نہ فرماتے :
     اسی طرح امیرا لمومنین حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوآرام کا وقت نہیں ملتاتھا، لہذا !آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بیٹھے بیٹھے غنودگی طاری ہوجاتی۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:'' اے امیر المومنین !کیا آپ سوتے نہیں ہیں؟''تو انہوں نے فرمایا:''میں کیسے سوسکتاہوں،ا گر میں دن میں سوتا ہوں تو لوگوں کے حقوق ضائع کر بیٹھوں گا اور اگر رات میں سوتا ہوں تو اللہ عزوجل کی طر ف سے اپنا حصہ ضائع کر بیٹھوں گا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ علیہ وسلم)
لیٹے ہوئے نہیں دیکھا:
     حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ ر حمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا سر ی سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے زیادہ اللہ عزوجل کی عبادت کرنے والا کسی کو نہیں پایا۔
Flag Counter