اچھی سیرت والا او ر خوش اخلاق انسان تھا۔ میری خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت ہدایت قبول کرنے اور حالتِ اسلام میں مرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ میں نے اس سے پوچھا :''تُوکیسا محسوس کررہا ہے ؟ تیرا کیاحال ہے ؟''اس نے جواب دیا :''میرا دل بیمار ہے اور صحت مند میں بھی نہیں، بدن کمزور ہے طاقت بالکل نہیں، قبر و حشت ناک ہے اور کوئی ہمدرد بھی نہیں ،سفر طویل ہے اور میرے پاس توشہ نہیں ،پل صراط بہت باریک ہے اور میرے پاس اجازت نامہ بھی نہیں ،آگ شعلہ زن ہے اور میرا بدن نحیف ونزار ہے، جنت بلند مرتبہ مقام ہے اور میرا اس میں کوئی حصہ نہیں اور پروردگار(عزوجل)عادل ہے اور میرے پاس کوئی حجت وعذر نہیں۔''
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں کہ میں نے (دل ہی دل میں) اللہ عزوجل سے اس مجوسی کے مسلمان ہوجانے کی دعا کی۔ پھر میں اس مجوسی کے قریب آیا اور اس سے پوچھا کہ تم سلامتی پانے کے لئے مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے ؟'' اس مجوسی نے کہا:''چابی تو فَتَّاحْ عزوجل کے پاس ہے ،پھر اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ یہاں قفل(تالا) لگا ہوا ہے۔'' یہ کہنے کے بعداس پرغشی طاری ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہ ِ الٰہی عزوجل میں عرض کی:'' اے میرے اللہ !میر ے آقا ! میرے مولا عزوجل! اگر تیرے پاس اس کا کوئی اچھا عمل باقی ہے تو اس کی روح کے نکلنے اور امید ٹوٹ جانے سے پہلے اس کا بدلہ اسے جلد عطا فرما۔''تو اسے غشی سے افاقہ ہو اآنکھیں کھولیں اورمیری طر ف متوجہ ہوکر کہنے لگا : ''اے شیخ !فَتَّاح عزوجل نے چابی بھیج دی ہے، اپنا ہاتھ