| آنسوؤں کا دریا |
اے بدی کے غلام ! تُو کتنے گناہ کرتا ہے اور ہم پردہ پوشی کردیتے ہیں ، ممنوعات کے کتنے دروازے تُوتوڑڈالتا ہے اور ہم اسے درست کردیتے ہیں ۔ ہم کب تک تیری آنکھوں سے خوف کے آنسو طلب کریں حالانکہ وہ نہیں گرتے ، ہم کب تک تیرا وصالِ اطاعت چاہیں حالانکہ تو اس سے بھاگتا ہے اور جدائی اختیار کرتاہے، ہم نے تجھے کتنی نعمتیں عطا فرمائیں مگر تو اس کا شکر ادانہیں کرتا،تجھے دنیا اور خواہشات کی پیروی نے دھوکے میں ڈال دیا کہ تُو نہ توسنتا ہے اورنہ ہی دیکھتاہے ، ہم نے تیرے لئے کائنات کو مسخر کردیا توپھربھی سرکشی اور ناشکری اختیار کرتاہے اور دنیاہی میں رہنا چاہتا ہے حالانکہ یہ تونصیحت قبول کرنے والے کے لئے پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنداشعار
مَنَعُوْکَ مِنْ شُرْبِ الْمَوَدَّۃِ وَالصَّفَا لَمَّا رَأَوْکَ عَلٰی الْخِیَانَۃِ وَالْجَفَا اِنْ اَنْتَ اَرْسَلْتَ الْعِنَانَ اِلَیْھِمْ جَادُوْا عَلَیْکَ تَکَرُّمًا وَتَعَطُّفًا حَاشَاھُمْ اَنْ یَّظْلِمُوْکَ وَاِنَّمَا جَعَلُوْاالْوَفَا مِنْھُمْ لِاَرْبَابِ الْوَفَا
ترجمہ:(۱)وہ تجھے محبت وپاکیزگی کا جام پینے سے روکتے ہیں ، جب وہ تجھے خیانت وجفا کا مرتکب دیکھتے ہیں ۔
(۲)اگرتم ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ تو وہ تم سے نرمی وشفقت کا برتاؤ کریں گے۔
(۳) وہ تجھ پر ظلم کرنے سے بری ہیں ،بلکہ وہ تو وفاداروں کے ساتھ وفا نبھانے والے ہیں۔مرنے سے پہلے ایمان نصیب ہوگیا:
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ الولی سے منقول ہے کہ میں ایک مجوسی کی موت کے وقت اس کے پاس گیا ۔اس کا گھر میرے گھرکے قریب تھا ،وہ اچھا پڑوسی،