حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ المرسلین ، رَحمۃٌللعالمین ،اَنیسِ الغرِ یبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ِ خوشبودار ہے کہ'' اللہ عزوجل کے خوف سے مومن کی آنکھ سے نکلنے والا قطرہ اس کے لئے دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے اور ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے اور اللہ عزوجل کی عظمت اور قدرت میں ایک گھڑی غورو فکر کرنا ساٹھ دن کے روزوں اور ساٹھ راتو ں کی عبادت سے بہتر ہے ، سن لو کہ بے شک اللہ عزوجل کا ایک فرشتہ ہر دن اور رات میں ندا کرتاہے کہ چالیس سال کی عمرو الو ! فصل کا ٹنے کا وقت آگیا ،اے پچاس سال والو! حساب کی تیاری کرلو، اے ساٹھ سال والو! تم نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا ہے؟ اے ستر سال والو! تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ کاش کہ مخلوق پیدا نہ ہوتی اوراگر پیدا ہوگئی تو کاش اپنا مقصد ِ حیات جان لیتی پھر اس کے مطابق عمل کرتی،خبر دار ! قیامت تمہار ے قریب آگئی ہوشیار ہوجاؤ۔''
(حلیۃالاولیاء،وھیب بن الورد،رقم:۱۱۷۴۸،ج۸،ص۱۶۷بتغیرٍ)
نَزِّہْ مَشِیْبَکَ عَنْ شَیْئٍ یُدَنِّسُہُ اِنَّ الْبَیَاضَ قَلِیْلُ الْحَمْلِ لِلدَّنَسِ
ترجمہ:اپنے بڑھاپے کوہراس چیزسے بچاجواُسے میلاکردے کیونکہ سفیدی میل کچیل کو کم ہی برداشت کرتی ہے