| آنسوؤں کا دریا |
(۲)کہ جب کوئی نوجوان اپنی نفسانی خواہشات کے بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے، تو وہ (ایمان میں)کامل ہوجاتا ہے۔
نیکیوں کی توفیق ملنا:
حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَحبوبِ ربُّ العزت،مُحسنِ انسانیت عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے کہ''جب اللہ عزوجل کسی بندے کی مغفرت فرمانا چاہتاہے تو اسے گناہ سے روک دیتاہے اور جب اللہ عزوجل کسی بندے کاعمل قبول کرنا چاہتاہے تو اسے نیک عمل کی طرف مائل کر دیتاہے ۔ ''
توبہ کے تین انعامات:
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سیِّدُالمبلغین،رَحْمۃٌلّلعالَمِین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ خوشبودار ہے :''توبہ کرنے والے جب اپنی قبر وں سے نکلیں گے تو ان کے سامنے سے مشک کی خوشبو پھیلے گی ، وہ جنت کے دستر خوان پرآکر اس میں سے کھائیں گے اوروہ عرش کے سائے میں ہوں گے جبکہ دیگر لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے۔ ''
خوف ِ خدا عزوجل میں بہنے والے آنسو:
ایک شخص نے تاجدارِ رسالت،شہنشاہِ نبوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی:'' یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !میں کس چیز کے ذریعے جہنم سے نجات پاسکتاہوں؟'' فرمایا:'' اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے۔'' عرض کی: ''میں اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کے ذریعے جہنم سے نجات کیسے پاؤں گا؟ '' فرمایا :