| آنسوؤں کا دریا |
طُوْبٰی لِمَنْ سَھِرَتْ بِاللَّیْلِ عَیْنَاہُ وَبَاتَ فِیْ قَلَقٍ مِنْ حُبِّ مَوْلَاہ وَقَامَ یَرْعٰی نُجُوْمَ اللَّیْلِ مُنْفَرِدًا شَوْقًا اِلَیْہِ وَعَیْنُ اللہِ تَرْعَاہ
ترجمہ:(۱)خوشخبری ہے اس کے لئے جس کی آنکھیں رات کو جاگتی ہوں اوروہ اپنے رب عزوجل کی محبت میں بے قراررات گزارتاہو۔
(۲)اوروہ اللہ عزوجل کی ملاقات کاشوق لئے ستاروں کے چھپنے کاانتظارکرتے ہوئے تنہائی میں قیام کرتاہے ،اوراللہ عزوجل کی نگاہ ِرحمت اس کی طر ف متوجہ رہتی ہے۔جیسا کرو گے ویسا بھرو گے :
سَرکارِ والاتبار، دوعالَم کے مالک ومختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے کہ'' نیکی پرُانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا ، جزاء دینے والا (یعنی اللہ عزوجل)کبھی فنانہیں ہوگا، لہذا جو چاہے کر، تو جیسا کریگا ویسا بھرے گا۔''
(المصنف للامام عبدالرزاق ، کتاب الجامع باب الاغتیاب والشتم ، رقم ۲۰۴۳۰ ، ج ۱۰ ، ص ۱۸۹)
اے اسلامی بھائی ! کیا تجھے معلوم ہے تو نے کیا کردیا ہے ؟ تونے قربت کو دُوری کے بدلے ،عقل کو خواہشات کے بدلے اور دین کو دنیا کے بدلے بیچ دیا ہے۔ چند اشعار
قُمْ فَارْثِ نَفْسَکَ وَابْکِھَا مَادُمْتَ وَابْکِ عَلٰی مَھَلْ فَاِذَا اتَّقَی اللہَ الْفَتٰی فِیْمَا یُرِیْدُفَقَدْکَمَلْ
ترجمہ:(۱)اُٹھ (یعنی تیارہوجا)اوراپنے نفس پر افسوس کراورجب تک توزندہ رہے اس پرروتارہ اور اپنے راحت وآرام پر آنسوبہا،