| آنسوؤں کا دریا |
حضرتِ سیِّدُنا مطہر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ان سے کہا تم کون ہو؟ کہنے لگیں ہم اللہ عزوجل کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں میں نے کہا تم کیا کررہی ہو؟ توانہوں نے یک زبان ہو کر خوبصورت انداز میں جواب دیا،
ذَرَانَا اِلٰہُ النَّاسِ رَبُّ مُحَمَّدٍ لِقَوْمٍ عَلَی الْاَطْرَافِ بِاللَّیْلِ قُوَّمُ یُنَاجُوْنَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ اِلٰھَھُمْ وَتَسْرِیْ ھُمُوْمُ الْقَوْمِ وَالنَّاسُ نُوَّمُ
ترجمہ:(۱)ہمیں لوگوں کے معبود،ربِّ محمدعزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے بندوں کے لئے پیدا فرمایا ہے جورات کے حصوں میں اس کے لئے قیام ( عبادت) کرتے ہیں۔
(۲) اوروہ جواپنے معبود،تمام جہانوں کے پالنے والے سے مناجات کرتے ہیں اور ان کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں جبکہ غافل لوگ سوتے رہ جاتے ہیں۔
حضرتِ سیِّدُنا مطہررحمۃ اللہ علیہ نے یہ سن کر کہا :''خوب بہت خوب ! وہ لوگ کون ہیں جن کی آنکھوں کو اللہ عزوجل نے ٹھنڈا کیا ہے ؟'' وہ کہنے لگیں:''کیا آپ انہیں نہیں جانتے؟'' میں نے کہا:''خدا کی قسم ! نہیں جانتا۔'' تو ان لڑکیوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جواپنی رات عبادت اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں ۔توبہ کا انعام:
نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ'' جب بندہ گناہ کرتا ہے پھر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کرتاہے اور اس پر قائم رہتا ہے تو اللہ عزوجل ا س کا ہر نیک عمل قبول فرمالیتاہے اور اس سے سرزد ہونے والا ہرگناہ بخش دیتاہے اور (معاف ہوجانے والے)ہرگناہ کے بدلے جنت میں اس کا ایک درجہ بلند فرمادیتاہے اور اللہ عزوجل اس کی ہرنیکی کے بدلے اسے جنت میں ایک محل عطا فرماتاہے او رحُور وں میں سے ایک حور