Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
296 - 303
     حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے تندرستی کے باوجود نماز ترک کرنے والے کے بارے میں پوچھاگیا :'' کیا اس کی تو حید مقبول ہوگی؟ ''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''جس کی نماز نہیں اس کی تو حید نہیں، جس کی نماز نہیں اس کی زکوٰۃ نہیں اور جس کی نماز نہیں اس کا کوئی روزہ نہیں ۔''

اللہ عزوجل فرماتاہے:
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ59﴾
ترجمہ کنز الایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔( پ 16،مریم: 59)

اس آیت میں غیٌّ سے مراد جہنم کی ایک وادی ہے جس میں صرف بے نمازی داخل ہوں گے ۔

    حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:''قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال ہوگا اگر اس کی نمازیں قبول ہوگئیں تو دیگراعمال بھی قبول کرلئے جائیں گے اور تندرستی کے با وجود نماز چھوڑ دینے والا جب بر تن سے لقمہ اٹھاتا ہے تو وہ لقمہ کہتا ہے :'' اللہ عزوجل کے دشمن نے مجھے ایسے منہ کی طرف اٹھالیا جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا ۔'' اور تندرستی کے باوجود نماز تر ک کرنے والے کے چہرہ کو اللہ عزوجل سیاہ فرمادیتاہے ،اس کے اخلاق تنگ کردیتاہے اس کے رزق سے برکت اٹھا لیتا ہے اس کے کپڑو ں میں جوئیں پیدا فرمادیتا ہے اللہ عزوجل اس سے ناراض ہو تا ہے، اس کے پڑوسی بھی اس سے بغض رکھتے ہیں او ربا دشاہ وقت اس پر ظلم کرتاہے تندرستی کے باوجود نماز نہ پڑھنے والے کی گواہی مقبول نہیں، کسی مسلمان
Flag Counter