Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
297 - 303
کے لئے جائز نہیں کہ اس کو کھانے میں شریک کرے یااس سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دے اور نہ ہی اس کے ساتھ ایک چھت کے نیچے بیٹھے ۔''

( شاید اس پر اللہ عزوجل کا عذاب نہ آجائے اور یہ بھی بے نمازی کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہو جائے۔)

    تندرستی کے باوجود نماز قضا کردینے والا جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کی پیشانی پریہ تین عبارتیں لکھی ہوں گی:(۱) اے اللہ عزوجل کے حقوق ضائع کرنے والے (۲)اے غضبِ الٰہی کے حقدار (۳)جس طر ح تو نے اللہ عزوجل کے حقوق ضائع کئے اس طر ح آج اللہ عزوجل کی رحمت سے بھی مایوس ہوجا ۔''

    مروی ہے، جہنم بے نمازی سے کہتا ہے:'' تو میرا دوست ہے کاش! اللہ عزوجل تجھے مجھ سے(جلدی) ملادے اور میں تجھ سے نماز کا انتقام لوں تو نماز کادشمن ہے اس لئے اللہ عزوجل تجھ پر غضبناک ہے ۔'' 

    اور جنت اسے کہتی ہے :''اے دشمنِ خدا !تو نے اللہ عزوجل کی امانت کو ضائع کیا اس کے فرض کی ادائیگی میں سستی کی میں تجھ پر حرام ہوں اور اللہ عزوجل کی بندگی کرنے والے مجھ میں جہاں چاہیں قیام کریں گے، میری نہریں جاری ہیں، پرندے چہچہا رہے ہیں اور میرا نور چار سو پھیل چکا ہے اور میری حوریں آراستہ ہوچکی ہیں۔''
تَمَّتْ بِالْخَیْرِ

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ وَحْدَہٗ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنْ لاَّنَبِیَّ بَعْدَہٗ
Flag Counter