کے لئے جائز نہیں کہ اس کو کھانے میں شریک کرے یااس سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دے اور نہ ہی اس کے ساتھ ایک چھت کے نیچے بیٹھے ۔''
( شاید اس پر اللہ عزوجل کا عذاب نہ آجائے اور یہ بھی بے نمازی کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہو جائے۔)
تندرستی کے باوجود نماز قضا کردینے والا جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کی پیشانی پریہ تین عبارتیں لکھی ہوں گی:(۱) اے اللہ عزوجل کے حقوق ضائع کرنے والے (۲)اے غضبِ الٰہی کے حقدار (۳)جس طر ح تو نے اللہ عزوجل کے حقوق ضائع کئے اس طر ح آج اللہ عزوجل کی رحمت سے بھی مایوس ہوجا ۔''
مروی ہے، جہنم بے نمازی سے کہتا ہے:'' تو میرا دوست ہے کاش! اللہ عزوجل تجھے مجھ سے(جلدی) ملادے اور میں تجھ سے نماز کا انتقام لوں تو نماز کادشمن ہے اس لئے اللہ عزوجل تجھ پر غضبناک ہے ۔''
اور جنت اسے کہتی ہے :''اے دشمنِ خدا !تو نے اللہ عزوجل کی امانت کو ضائع کیا اس کے فرض کی ادائیگی میں سستی کی میں تجھ پر حرام ہوں اور اللہ عزوجل کی بندگی کرنے والے مجھ میں جہاں چاہیں قیام کریں گے، میری نہریں جاری ہیں، پرندے چہچہا رہے ہیں اور میرا نور چار سو پھیل چکا ہے اور میری حوریں آراستہ ہوچکی ہیں۔''