ہوجاتا ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ شرابی نشہ میں مدہوش ہوکراکثر طلاق دے دیتا ہے اور بعض اوقات لاشعوری طور پر قسم توڑڈالتا ہے تو اپنی حرام کی ہوئی بیوی سے زناکربیٹھتا ہے ۔
بعض صحابهٔ کرام علیہم الرضوان کا قول ہے :'' جس نے اپنی بیٹی کو کسی شرابی کے نکاح میں دیا گویا اس نے اپنی بیٹی کو زنا کے لئے پیش کردیا۔''
(۶) یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور شرابی کو بہت سے گناہوں میں مبتلاکر دیتی ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا :'' اے لوگو ! شراب نوشی سے بچتے رہوکیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ ''
(۷) شراب نوشی کاساتواں نقصان یہ ہے کہ یہ شرابی کو بدکاروں کی مجلس میں لے جاتی ہے اپنی بد بو سے اس کے کاتب فرشتو ں کوایذا دیتی ہے ۔
(۸) یہ شرابی پر آسمانوں کے دروازے بند کردیتی ہے چالیس دن تک نہ اس کا کوئی عمل اوپر پہنچتا ہے نہ ہی دُعا ۔
(۹)شراب نوشی،شرابی پر اَسّی کو ڑے واجب کردیتی ہے لہٰذا اگر وہ دنیا میں اس سزا سے بچ بھی گیا تو آخرت میں مخلوق کے سامنے اسے کوڑے مارے جائیں گے۔
(۱۰) یہ شرابی کی جان اور ایمان کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اس لئے مرتے وقت ایمان چِھن جانے کا خدشہ رہتاہے۔