| آنسوؤں کا دریا |
نبی کریم،رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو رُک گئے اس پر اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:'' اس نے تمہیں اللہ عزوجل کا واسطہ دیا تو تم نے اسے معاف نہ کیا تو مجھے دیکھ کر کیوں رُک گئے؟'' صحابی نے عرض کیا: ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ اللہ عزوجل کے لئے آزاد ہے۔'' تونور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا :''اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم تمہارا چہرہ جلادیتی۔''
(رواہ مسلم ،کتاب الایمان ،باب صحبۃالممالیک ،الحدیث ۱۶۵۹،ص۹۰۵ بنحوہ)
بہت زیادہ قسمیں اٹھا نے کی وجہ سے اللہ عزوجل کی ناراضگی کاسامنا کرنے سے بچو، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے :
وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمَانِکُمْ
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو۔(پ2،البقرۃ: 224)
جھوٹی قسم کی سزا:
اسرائیلیات میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے عرض کی: ''یارب عزوجل!جوتیرے نام کی جھوٹی قسم اٹھائے اس کی سزاء کیا ہے ؟'' فرمایا: ''میں اس کی زبان کو آگ کے دوانگاروں کے درمیان پاٹ دو ں گا۔ ''عرض کیا :''یارب عزوجل! تو جو جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال لوٹ لے اس کی سزا کیاہے؟'' فرمایا : '' میں جنت سے اس کا حصہ کا ٹ دو ں گا ۔''