حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' میں ایک آیت مبارکہ پڑھا کر تا تواس میں میرے لئے علم کے ستر دروازے کھول دئیے جاتے پھر جب میں نے امراء کا مال کھایااور اس کے بعد جب میں نے وہ آیت پڑھی تو اس میں میرے لئے علم کاایک دروازہ بھی نہ کھلا۔''
میرے اسلامی بھائیو!
حرام غذاایک ایسی آگ ہے جو فکر کی چربی پگھلادیتی ہے اور حلاوتِ ذکرکی لذت ختم کردیتی ہے اور سچی نیتو ں کے لباس جلادیتی ہے اور حرام ہی سے بصیرت کااندھاپن پیدا ہوتا ہے لہٰذا مال حلال جمع کرو اور اسے میانہ روی سے خرچ کرو خود بھی حرام سے بچو اور اپنے گھروالوں کو بھی اس سے بچاؤ اور حرام خوروں کی صحبت میں نہ بیٹھو اور ان کا کھانا کھانے سے بچتے رہواو رجس کا ذریعہ معاش حرام ہو اس کی صحبت اختیار نہ کر و اگر تم اپنی پرہیزگاری میں سچے ہو تو نہ ہی کسی کی حرام پر رہنمائی کرو کہ اگر وہ اسے کھا لے تو اس کا حساب تم سے لیا جائے اور نہ ہی حرام کے حصول میں کسی کی مدد کرو کیونکہ معاون بھی عمل میں شریک ہی ہوتا ہے ۔ یاد رکھو! حلال کھانے ہی سے اعمال قبول ہوتے ہیں اور فاقہ وتنگدستی کو چھپانے اورتنہائی میں رو رو کر آہیں بھرنے کو اعمال