Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
282 - 303
تو بہ نہیں بن سکے گی کیونکہ حرام مال کی تو بہ یہ ہے کہ وہ مال مالک کو لوٹا دیا جائے یا اُس سے اپنے استعمال کے لئے حلال کرلیا جائے(یعنی معاف کروالیا جائے)۔''
حلال کھانے کی برکتیں:
     رسولِ اَکرم ،نبئ محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ جنت نشان ہے :'' جس نے چالیس دن تک حلال کھایااللہ عزوجل اس کے دل کو منور فرمادے گا اور اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری فرمادے گا اور دنیا وآخرت میں اس کی رہنمائی فرمائے گا۔''
(اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب الحلال والحرام ،باب فی فضیلۃ الحلال ...الخ ، ج ۶ ،ص ۴۵۰)
دعاکی قبولیت کا نسخہ:
     اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام سے ارشادفرمایا:'' اگر تم مجھ سے دعاکا ارادہ کرو تو اپنے پیٹ کو حرام غذا سے محفوظ رکھو اور یوں عرض کرو : اے قدیم احسان اور وسیع فضل والے ! اے وسیع رحمت والے ! تو میں تمہارا سوال پورا فرمادوں گا۔''
پرہیز گاری کی اہمیت:
    حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں :'' اگر تم اتنے روزے رکھو کہ سوکھ کر کمان کی طرح خَم دار ہوجاؤ اور اتنی نمازیں پڑھو کہ کیل کی طر ح سوکھ جاؤ تب بھی تمہارے عمل کا مل پرہیز گاری کے بغیر قبول نہ ہوں گے ۔''

    بعض اہل علم کا قول ہے :'' دنیا کی حلال چیزوں پر حساب ہے اور حرام پر عذاب ہے اور حرام ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج فقط یہی ہے کہ بندہ حرام کھانے سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پناہ چاہے ۔''
Flag Counter