| آنسوؤں کا دریا |
(ذکرہ الزبیدی فی الاتحاف ،کتاب الحلال والحرام ،الباب الاول ،ج۶، ص۴۵۶،دون قولہ ولا اعتقادًا ولا حجاً ولا عسرًا وکانت لہ بعد اوزار)
حرام کے ایک درہم کا اثر:
حضورنبئ کریم، رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' اگر کوئی شخص دس درہم سے ایک کپڑا خرید ے اور ان میں حرام کا ایک درہم بھی ہو تو اللہ عزوجل اس وقت تک اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا جب تک(وہ) ایک درہم اس کے مالک کو نہ لوٹا دے ۔ ''
(المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث ۵۷۳۶،ج۲،ص۴۱۶ بتصرف الفاظ )
اللہ کے محبوب،دَانائے غیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' جب تک اس کپڑے میں سے کچھ بھی باقی رہے گا اللہ عزوجل اس کا کوئی عمل قبول نہیں فرمائے گا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث ۵۷۳۶،ج۲،ص۴۱۶ بلفظ لم یقبل اللہ صلوٰۃ مادام علیہ)
سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ،صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ،فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :'' حرام یا شراب سے نشوونماپانے والا گوشت اور خون جنت میں داخل نہ ہوگا ۔''
(المسندللامام احمدبن حنبل،مسندجابربن عبداللہ،رقم۱۴۴۴۸،ج۵،ص۶۴''حرام'' بدلہ'' سحت'')
حرام مال سے توبہ :
سر کارِ اَبد ِقرار،شافعِ روزِ شمار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :'' اگر مال حرام کھانے والے لوگ سترمرتبہ بھی راہِ خدا عزوجل میں شہید ہوجائیں تب بھی ان کی شہادت ان کی