Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
28 - 303
قابل ِ رشک موت :
    اولیائے کا ملین رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے جب ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا:'' اے میرے بیٹے ! میری وصیت غور سے سنو اوراس پر ضرو ر عمل کرنا۔'' اس نے عرض کی:''بہت بہتر ابّاجان !'' فرمایا: ''بیٹے! میری گردن میں ایک رسی ڈال کر مجھے محراب کی طرف گھسیٹو اور میرے چہرے کوخاک آلودکردو ،اوریہ کہتے جاؤ :'' یہ اس شخص کا انجام ہے جس نے اپنے مولا عزوجل کی نافرمانی کی، اپنی نفسانی خواہشات کو ترجیح دی اوراپنے مالک کی اطاعت سے غافل رہا۔''

     جب ان کی اس خواہش کو پورا کر دیا گیا تو انہوں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور عرض کی:

    ''اے میرے معبو د، اے میرے آقا ومولا عزوجل ! تیری بارگا ہ میں حا ضری کا وقت آپہنچا،۔۔۔۔۔۔میرے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کر سکوں ، ۔۔۔۔۔۔ مگر اے مولاعزوجل ! میں گنہگارہوں اورتُو بخشنے والا ہے ، میں مجرم ہوں اورتُو رحم فرمانے والا ہے ،میں تیرابندہ ہوں اورتُو میراآقا ہے،۔۔۔۔۔۔ میری عاجزی اورذلت پر رحم فرما کیونکہ گناہ سے بچنے اورنیکی کرنے کی قوت تُوہی عطافرماتاہے ۔''

    یہ کہنے کے بعد اس بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی روح قفس ِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ اسی لمحے گھر کے ایک کونے سے ایک آواز سنائی دی جسے گھر میں موجود تمام لوگوں نے سنا،مُنادِی کہہ رہا تھا:''اس بندے نے اپنے مولا عزوجل کے سامنے خود کو ذلیل ورُسوا کیااور اسکی بارگاہ میں اپنے گناہو ں کا اعتراف کیا تو رب عزوجل نے اسے
Flag Counter