نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاارشادِ پاک ہے : اللہ عزوجل کاایک فرشتہ ہر دن اور رات میں بیت المقدس کی چھت پر نِدا کرتا ہے :'' جس نے حرام کھایا تو جب تک وہ حرام اس کے گھر سے نہ نکل جائے اللہ عزوجل نہ اس کی فر ض عبادت قبول فرمائے گا نہ ہی نفل اور اگر وہ اسی حال میں مر گیا تو میں اس سے بر ی ہوں۔
(اتحاف السادۃ المتقین،کتاب الحلال والحرام ،الباب الاول فی فضیلۃ الحال...الخ ،ج۶،ص ۴۵۲،دون قولہ :حتی یخرج ذالک الحرام ...الخ)
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ سلم نے فرمایا: ''امانتوں کواپنے گھر وں سے نکال دو اور انہیں ان کے مالکوں کے سپرد کر دو پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارے اعمال ہرگز تمہیں نفع نہ پہنچا سکیں گے اور نہ ہی گھر میں حرام کی موجودگی کی صورت میں لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ کہنا تمہیں نفع دے سکے گا ۔''
سود کا گناہ معاف نہ ہوگا:
سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ،صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ،فیض