| آنسوؤں کا دریا |
(صحیح البخاری ، کتاب التعبیر ،باب تعبیر الرویابعد صلاۃ الصبح ، رقم ۷۰۴۷، ج ۴ ، ص ۴۲۵)
سود کھانے والے کی غذا:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :'' اے میرے رب عزوجل ! جو شخص سود کھاتاہو اور اس سے تو بہ نہ کرے تو اس کی سزا کیا ہے ؟'' فرمایا :'' اے موسیٰ علیہ السلام ! میں اسے قیامت کے دن تُھوہر کے درخت سے کھلاؤں گا ۔''(تھوہر کے درخت کا پھل جہنمیوں کی غذا ہے اس کی تلخی اور عذاب کی سختی کا عالم یہ ہے کہ اگر اس کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکادیا جائے تو دنیا والوں کی زندگی تلخ ہو جائے ۔)
اشعا ر
اَیَاذَاالَّذِیْ قَلْبُہُ مَیِّتٌ بِاَکْلِ الرِّبَا اِزْدَجِرْ وَانْتَبِہْ فَکَمْ نَائِمٍ نَامَ فِیْ غِبْطَۃٍ اَتَتْہُ الْمَنِیَّۃُ فِیْ نَوْمَتِہْ وَکَمْ مِنْ مُقِیمٍ عَلٰی لَذَّۃٍ دَھَتْہُ الْحَوَادِثُ فِیْ لَذَّتِہْ وَکَمْ مِنْ جَدِیْدٍ عَلٰی ظَھْرِھَا سَیَأْتِیْ الزَّمَانُ عَلٰی جِدَّتِہْ
ترجمہ:(۱)اے وہ شخص جس کادل سُودکھاکھاکرمردہ ہوچکاہے !بازآجااورغفلت سے بیدار ہوجا۔
(۲)کتنے ہی سونے والے لوگ خوشی خوشی نیندکررہے ہوتے ہیں،اسی نیندکی حالت میں انہیں موت آدبوچتی ہے ۔
(۳)اورکتنے ہی لذت پرست لوگ ایسے ہیں جنہیں ان کی لذت کے خطرات نے مصائب سے دوچارکررکھاہے ۔
(۴)او رکتنے ہی نئے نئے گناہ اُس کی پیٹھ پرلدے ہوئے ہيں،عنقریب اس کی اسی حالت میں(موت کا) وقت آپہنچے گا۔