(المسندللامام احمدبن حنبل ،حدیث عبداللہ بن حنظلۃ بن ابی عامر ، رقم ۲۲۰۱۶،ج ۸،ص۲۲۳ )
حضرت سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :'' اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر کی نماز ادا فرمائی تو اپنارُخِ انور ہماری طرف کر کے فرمایا :''کیاتم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟'' ہم نے عرض کیا :''نہیں، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! پھرحضورنبی کریم ،رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے ( معراج کا واقعہ ذکر فرماتے ہوئے )سو د کے بارے میں بتایا کہ ہم چلتے چلتے خون کی ایک نہر پر پہنچے، اس میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا اور نہر کے کنارے پر بھی ایک شخص کھڑا تھا، جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ نہر میں موجود شخص نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو باہر کھڑے شخص نے اس کے منہ پر ایک پتھر مارا اور اسے اس کی جگہ واپس پہنچا دیا پھر جب بھی وہ شخص باہر نکلنے لگتا تویہ شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا تو وہ واپس اپنی جگہ لوٹ جاتا۔میں نے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتا یاگیا :''یہ سود خور ہے، اس کے ساتھ قیامت تک اسی طرح