Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
273 - 303
تواضع کا انعام:
     حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:جب حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے الواح (یعنی تختیوں)کو پکڑ کر ان پر نظرڈالی تو عرض کیا: '' یا الٰہی عزوجل ! تو نے مجھے ایسی بزرگی سے سرفراز فرمایا ہے جس سے مجھ سے پہلے کسی کو سر فراز نہ فرمایا تھا۔'' تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی :'' کیاتم جانتے ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے ؟'' عرض کیا، ''میں نہیں جانتا۔'' فرمایا: ''اس لئے کہ میں نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو تمہارے دل سے زیادہ کسی کو تو اضع کرنے والا نہیں پایا،لہٰذا
یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصْطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلَامِیۡ ۫ۖ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَکُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿144﴾
ترجمہ کنزالایمان:میں نے تجھے لوگو ں سے چن لیا اپنی رسالتوں اوراپنے کلام سے تو لے جومیں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو۔(پ9،الاعراف :144)

    اے موسیٰ (علیہ السلام)! جو میری عظمت کے سامنے جھک جائے،میری مخلوق پر بڑائی نہ چاہے،اپنے دل پر میرے خوف کو لازم کرلے،اپنا دن میرے ذکر میں گزارے اور میری خاطر اپنی زبان کو نفسانی خواہشات سے روک لے تو میں بھی اس کی طر ف توجہ فرماتاہوں۔''
غصہ پینے کا انعام:
    نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
Flag Counter