زبان وکلام میں لغت اور عربی قوانین کی کچھ غلطیاں پائیں تو اس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس میں آنا چھوڑ دیا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے مکتو ب بھیجا: '' میں تمہیں خود پسندی کا شکار پاتا ہوں تم دروازے سے پیچھے رہ جانے پر راضی ہوگئے ہو کیا تم نے کسی عارف کا ایک ادیب کو بھیجا ہوا یہ خط نہیں سنا جس میں انہوں نے لکھا تھا : جو اپنے اقوال کی مضبوطی پر اعتماد کرتا ہے وہ افعال میں غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ تم اپنی ساری حاجتیں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کردیتے ،اپنی آواز کو برائیوں سے محفو ظ کرلیتے، اپنے نفس کو بری خواہشات سے بچالیتے ،موت کے ترازو کو اپنے سامنے نصب کر لیتے کیاتم نہیں جانتے کہ بندے سے قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا: تو بولنے میں فصیح وادیب کیوں نہ تھا ، بلکہ اس سے یہ کہا جائے گاکہ تو گناہ کیوں کرتا تھا ؟''
پیارے اسلامی بھائی !
کلام میں فصاحت وسلاست ہونا قابلِ فخر بات نہیں بلکہ اعمال میں تَسَلْسُل ہونا چاہے۔
اشعار