اپنی مایوسی کی وجہ سے سعا دت کے حصول سے محروم رہتاہے جبکہ خود پسندآدمی یہ گمان کرتے ہوئے سعادت کے حصول کی کوشش نہیں کرتا کہ وہ اسے پاچکاہے۔
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں مروی ہے، ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا :'' میں پختہ علم والوں میں سے ہوں۔'' اور ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ''مجھے کھونے سے پہلے ہی مجھ سے جو کچھ پوچھناچاہتے ہو پوچھ لو۔'' پھر جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دولت کدے کی طر ف لوٹے تو اللہ عزوجل نے ایک فرشتے کو آدمی کی صورت میں بھیجا، اس نے ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما باہر تشریف لائے تو فر شتے نے کہا :'' اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ !چھوٹی سی چیونٹی کے بارے میں کیافرماتے ہیں کہ اس کی رو ح اس کے جسم کے اگلے حصے میں ہوتی ہے یا پچھلے حصے میں ؟'' توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ئی جواب نہ دے سکے پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر کے اپنے نفس کو سمجھانے لگے کہ آئندہ کبھی علم کا دعوی نہ کرنا ۔''
بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے :