| آنسوؤں کا دریا |
ہے تو وہ بولتا ہے اور اگر اس کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تو بات کرنے سے رُک جاتاہے اور جاہل کادل اس کی زبان کے تابع ہوتا ہے اس لئے اس کے جی میں جو آتا ہے وہ بولتا رہتا ہے۔''
(کتاب الزھد لابن المبارک ، باب حفظ اللسان ،ر قم ۳۹۰ ،ص ۱۳۱بتصرفٍ ومن قول الحسن بصری ۱۶۹)
ایک بات کا نتیجہ:
سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ،صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ،فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے :'' آدمی اللہ عزوجل کی رضاکی ایک بات کہتاہے اوراسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ بات اسے کہا ں تک پہنچا دے گی مگراللہ عزوجل اس کی وجہ سے قیامت تک کے لئے اس کے لئے اپنی رضا لکھ دیتاہے۔''
(المؤ طا للامام مالک ،کتاب الکلام ،ما یؤمر بہ...الخ ،الحدیث ۱۸۹۹ ،ج۲،ص۴۶۴ بتصرفٍ)
حضورنبئ کریم، رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :'' آدمی لاپرواہی سے کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جواسے جہنم کی آگ میں گرادیتی ہے اور آدمی کوئی بات کہتا ہے جسے وہ اہمیت نہیں دیتامگر اللہ عزوجل اس بات کی وجہ سے اسے جنت تک بلند فرما دیتا ہے ۔''
(المؤ طا للام مالک ،کتاب الکلام ،ما یؤ مر بہ...الخ ،رقم ۱۸۹۹ ،ج۲،ص۴۶۴ بتصرفٍ)
میرے بھائی!
عُجب یعنی خود پسندی کی آفت سے بچتے رہو کیونکہ یہ آفت ہر صورت میں مذموم ہے خواہ جان پر ہو یاقول وفعل پر اور اپنے قول وفعل سے دھوکا مت کھاؤ۔