(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب الحث علی اکرام الجار...الخ ،رقم ۴۸، ص ۴۴)
رسول ِ اکرم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' اللہ عزوجل اس بندے پر رحم فرمائے جو اچھی بات کہتاہے یا پھر خاموش رہتا ہے۔''
(کتاب الزھد لابن المبارک ، باب حفظ اللسان ،ر قم ۳۸۰ ،ص ۱۲۸بتصرفٍ و کشف الخفاء ، رقم۱۳۷۲، ج۱، ص۳۷۷،بدون عبداً )
نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاارشادِ پاک ہے کہ آدمی سے اکثرخطائیں اس کی زبان کے باعث ہوتی ہیں۔
(شعب الایمان ،باب فی حافظ اللسان ، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ ، رقم ۴۹۳۳،ج۴ ، ص ۲۴۰۔۲۴۱،)
عقل مند اور جاہل کے کلام میں فرق:
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ ذیشان ہے کہ عقلمند کی زبان اس کے دل کے تا بع ہوتی ہے لہذا جب وہ گفتگو کا ارادہ کرتاہے تو اپنے دل سے مشورہ کرتا ہے اگروہ بات اس کے حق میں بہتر ہوتی