حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینا ر علیہ رحمۃ اللہ الغفَّارفرماتے ہیں کہ میں اپنے ایک پڑوسی کے پاس گیا۔وہ موت کی سختیوں میں مبتلاتھا ،کبھی اس پر غشی طار ی ہوتی اور کبھی اِفاقہ ہوجاتا۔اس کے سینے سے گرم سانسیں نکل رہی تھیں۔وہ اپنی دنیا میں منہمک رہا کرتا اوراپنے رب عزوجل کی اطاعت میں غفلت کیا کرتاتھا ۔میں نے اسے مشورہ دیا : ''اے میرے بھائی! اللہ عزوجل کی بار گا ہ میں تو بہ کر اور غفلت سے اپنا دامن چھڑا لے ، شاید اللہ عزوجل تیرے درد میں کمی فرمادے او ر تجھے شفا دے دے اور اپنے کرم سے تیرے گناہ معاف فرمادے۔'' تو وہ کہنے لگا:'' ہائے افسوس ! موت سر پر کھڑی ہے اور عنقریب میں مرنے والا ہوں،افسو س ہے اس زندگی پر جسے میں نے فضول کاموں میں گنوادیا،میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرتاہوں۔'' حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفَّارفرماتے