بعض آسمانی کتابوں میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشادفرماتاہے:'' اے ابن آدم !تُو کتنا مجبو ر ہے !مجھ سے سوال کرتاہے تومیں منع کردیتاہوں کیونکہ جوتیرے حق میں بہترہے میں اسے جانتاہوں، پھر تو میری بارگاہ میں گڑ گڑا کر سوال کرتاہے تو میں تجھ پر اپنی رحمت اورکرم سے عنایت فرماتاہوں اور تجھے تیرا سوال عطا فرماتاہوں، پھر تو میری عطا کردہ شے سے میری نافرمانی پر مدد مانگتا ہے تو میں تجھے ذلیل و رسوا کردیتا ہوں میں تیری کس قدر بہتری چاہتا ہوں اور تو میری کتنی نافرمانیاں کرتاہے، قریب ہے کہ میں تجھ سے ایسا ناراض ہوجاؤں کہ اس کے بعد کبھی راضی نہ ہوں۔''
اوربعض آسمانی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:''اے میرے بندے ! تُوکب تک میری نافرمانی کرتارہے گا حالانکہ میں نے تجھے اپنا رزق کھلایا اور تجھ پر احسان کیا، کیامیں نے تجھے اپنے دستِ قدرت سے پیدا نہیں فرمایا ؟ کیا میں نے تجھ میں روح نہیں پھونکی ؟ کیا تو نہیں جانتاکہ میں اپنی اطا عت کرنے والوں کیساتھ کیسامعاملہ فرماتاہوں اور اپنی نافرمانی کرنے والوں کی کیسی گرفت فرماتا ہوں؟ کیاتجھے حیاء نہیں اتی کہ مصائب میں مجھے یاد کرتاہے مگر خوش حالی میں بھول جاتاہے ، نفسا نی خواہشات نے تیری چشمِ بصیرت کواندھا کردیاہے ،تو کب تک سستی کریگا؟ اگر تواپنے گناہ سے توبہ کریگا تومیں تجھے اپنی امان عطا فرماؤ ں گا، ایسے گھر کو چھوڑدے جس کی صفائی (حقیقت میں) میلی ہے او ر اس کی امید یں جھوٹی ہیں۔ تو نے میرے قُرب کو گھٹیا لوگو ں کے ہاتھوں بیچ دیا حالانکہ میرا کوئی شریک نہیں ، تیرے پاس اس وقت کیا جواب ہوگاجب تیرے اعضاء تیرے خلاف گواہی دیں گے جسے تو سنے گا اور دیکھے گا۔''