نبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :''اے معا ذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں اگر تم نے اسے یاد کرلیا تواللہ عزوجل تمہیں نفع دے گا اور اگر اسے ضائع کردو گے اور یاد نہیں کروگے تو قیامت کے دن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تمہاری حجت ختم ہوجائے گی۔''
پھرارشاد فرمایا:''اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اللہ عزوجل نے زمین وآسمان پیدا فرمانے سے پہلے سات فرشتے پیدا فرمائے پھر ہرآسمان پرایک فرشتے کو دربان مقر ر فرمایا۔بندے کے اعمال لکھنے والے فرشتے اس کے صبح سے شام تک کے اعمال آسمانوں تک لے جاتے ہیں ،ان کا نور سورج کے نور جیسا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب وہ آسمان دنیا پر پہنچتے ہیں توان کے اعمال کوپاکیزہ اور کثیر تعداد والا بناکر پیش کرتے ہیں تو مؤکل فرشتہ ان فرشتوں سے کہتاہے :'' یہ عمل اس بندے کے منہ پر دے مارو، میں غیبت پر نگران ہوں، میرے رب عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ لوگو ں کی غیبت کرنے والے کے عمل کوآگے نہ بڑھنے دوں کہ وہ کسی دوسرے فرشتے کے پاس پہنچے ۔'' پھر وہ فرشتے بندے کے نیک اعمال لے کرپرواز کرتے ہیں او رانہیں بڑھا چڑھا کرپیش کرتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ دوسرے آسمان تک پہنچتے ہیں تو مؤکل فرشتہ ان سے کہتا ہے :''رُک جاؤ !یہ اعمال عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو کیونکہ اس نے ان کے ذریعے دنیا کے مال کا ارادہ کیا تھا، میرے رب عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کا عمل اگلے فرشتے تک نہ جانے دو ں کیونکہ یہ شخص لوگوں کی مجالس میں ان پر فخر کیاکرتاتھا۔''
پھرفرمایا :ملائکہ کسی بندے کے عمل لے کرپرواز کرتے ہیں اور تیسرے آسمان