نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :'' معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے نوچ رہی تھی مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جولوگو ں کی غیبتیں کیا کرتے تھے۔''
(رواہ ابو داود ،کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ ،رقم ۴۸۷۸ ، ج ۴،ص ۳۵۳بلفظ لما خرج بقوم ...الخ)
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :'' آگ خشک لکڑیوں کو اتنی تیزی سے نہیں جلاتی جتنی تیزی سے غیبت بندے کی نیکیاں ختم کردیتی ہے ۔''
(ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ،باب الغیبۃ وذمھا،رقم ۵۴،ج۴،ص۳۵۶،مفھوماً)
حضرت عبدالملک بن حبیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنامعا ذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا :'' مجھے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائيے ۔''تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ