Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
246 - 303
غیبت اور چغل خوری کی مذمت 

دنیاوآخرت کی مقبولیت:
    سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ،صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ،فیضِ گنجینہ،شہنشاہ ِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ''اے ابوہریرہ ! اگر تم یہ بات پسند کرتے ہو کہ اللہ عزوجل دنیا اور آخرت میں تمہیں مقبول بنائے تو تم اپنی زبان کو مسلمانوں کے معاملا ت میں بولنے سے روکے رکھو ۔ ''
غیبت کرنے والا روزہ دار نہیں :
    نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے: ''جو دن کے وقت لوگو ں کاگو شت کھانے میں لگا رہا اس نے روزہ نہیں رکھا۔''
(المصنف لابن ابی شیبۃ ،کتاب الصیام ،باب مایؤمربہ الصائم...الخ،الحدیث۱۳،ج۲، ص ۴۲۳)
سب سے زیادہ ناپسند:
    حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :'' ہر طعن وتشنیع اور لعنت بھیجنے والا شخص اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ہے۔''
(کتاب الزھدلابن مبارک ، باب ماجاء فی الشح ، رقم ۶۸۰،ص ۲۳۷،عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
فرشتوں کی لعنت:
    حضرتِ سَیِّدُنا سعیدبن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاارشادِ حقیقت بنیادہے:
Flag Counter