ترجمہ: وہ جب بھی مجھ پرظلم کرتے ہیں میں ان سے یہی کہتاہوں:''تم نے مجھے ضائع کردیااورافسوس! کیسے کڑیل جوان کو ضائع کردیا۔
وہ اس شعر کو دہراتارہتا،رفتہ رفتہ امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم اس کے اس کلام سے مانوس ہوگئے ۔ایک دن امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے اس کی آواز نہ سنی تو فجر کے لئے جاتے وقت اس کے بارے میں معلوم کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بتا یا گیا کہ ''کوتوال نے اسے نشہ کی حالت میں پایا تو جیل میں ڈال دیا۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فجر ادا کرنے کے بعد کوتوال کے گھر تشریف لے گئے اور اس کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے آنے کی اطلاع کی تو کوتوال فوراًننگے سر ، برہنہ پا باہر نکلا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہاتھ چوم کر عرض کرنے لگا:'' یا سیدی !میں کب سے اتنا معزز ہو گیا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خود چل کر میرے پاس آنا پڑا ؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' میرے ایک پڑوسی کو گذشتہ رات قید کرلیاگیا ہے میں اس کے لئے آیاہوں۔''کوتوال بولا: ''یاسیدی! میں اپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوگواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے آزاد کردیا اورگزشتہ رات جتنے لوگوں کو بھی قید کیاگیا میں سب کو آزاد کردیتا ہوں۔''
پھر جب امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم واپس لوٹے تو وہ شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ تھا آپ اس کی طر ف متو جہ ہوئے اور فرمایا:'' اے میرے بھائی ! کیاہم نے تمہیں ضائع کیا؟'' اور کیاہم نے تمہارے اس قول کہ ''انہوں نے مجھے ضائع کردیا۔''اور''افسوس کیسے کڑیل جوان کو ضائع کردیا ۔''کی رعایت کرتے ہوئے ہم نے تمہارے حق کی پاسداری نہ کی ؟'' وہ کہنے لگا :'' خداکی قسم !آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے ضائع نہیں کیابلکہ میری رعایت کی، اللہ عزوجل آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پڑوسیوں