| آنسوؤں کا دریا |
اَلصَّمْتُ نَفْعٌ وَالْکَلَامُ مُضِرَّۃٌ فَلَرُبَّ صَمْتٍ فِیْ الْکَلَامِ شِفَاءُ فَاِذَا اَرَدْتَّ مِنَ الْکَلَامِ شِفَاءً لِسَقَامِ قَلْبِکَ فَالْقُرْآنُ دَوَاءُ
ترجمہ:(۱)خاموشی نفع بخش اور(فضول) گفتگو نقصان دہ ہے ،اکثر گفتگوسے پرہیزہی میں فائدہ ہوتاہے۔
(۲)جب توگفتگوسے اپنے قلبی مرض کی شفاکاارادہ کرے توتلاوتِ قرآن مجیداس کی بہترین دوا ہے۔
میرے پیارے اسلامی بھائیو!
یاد رکھو! لوگوں کے عیوب کی جستجو اور ان کی برائیوں کی کھوج لگانابرائیوں اور پر دہ دری کا دروازہ کھولتا ہے حالانکہ اللہ عزوجل نے اپنی پاک کتاب میں اس سے منع فرمایا ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے،وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ ۔
ترجمہ کنز الایمان:اور عیب نہ ڈھونڈھو اورایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔( پ26 الحجرات آیت 12)
لہذا اللہ عزوجل سے ڈرو اور لوگو ں کے عیوب کو چھوڑ کر اپنے عیوب کی اصلاح میں مشغول ہوجاؤ او رمکھی کی طر ح نہ بنو جو جسم کے کسی سالم حصے پرنہیں بیٹھتی بلکہ زخم والے حصے پر پیپ چوسنے کے لئے بیٹھتی ہے کیونکہ جو شخص اپنے عیب بھول کرلوگوں کے عیوب تلاش کرتا ہے اور ان کی برائیوں کی کھوج میں لگا رہتاہے تو اللہ عزوجل اس پر ایسے شخص کو مسلط فرمادیتا ہے جو اسے بدنام کرنے کے لئے اس کے عیوب