بعض حکماء کا کہنا ہے :'' خود کوضائع کرنے اور قید ہوجانے سے پہلے اپنی زبان کو قابو کرلو کیونکہ زبان سے زیادہ کوئی چیز قید کی مستحق نہیں کہ یہ غلطیاں زیادہ کرتی اورجواب دینے میں جلد بازی سے کام لیتی ہے ۔''
بعض حکماء کہتے ہیں :'' فضول کلام چھوڑ دینا گفتگو میں حکمت پیدا کرتاہے ، پر یشان نظری چھوڑ دینا خشو ع اور خشیت(یعنی عاجزی اور خوف) پیدا کرتا ہے، فضول شئے کھانے سے اجتناب کرنا عبادت میں مٹھاس پیدا کرتاہے ، زیادہ ہنسنے کو چھوڑنارعب پیدا کرتا ہے اور حرام میں رغبت نہ کرنا محبت پیدا کرتا ہے ، لوگو ں کے عیوب کی جستجو چھوڑنا عیوب کی اصلاح کا سبب ہے اور اللہ عزوجل کے معاملہ میں وہم کو