Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
239 - 303
عقل مند کون؟
    حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام کے صحیفو ں میں ہے : ''عقلمند آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے پر نظر رکھنے والا ہو ، اپنے کام سے کام رکھنے والا ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو۔''
 (التر غیب والترھیب ،کتاب الادب ،باب الترغیب فی الصمت ،الحدیث ۴۴۰۵،ج۳،ص۴۱۷،ولم اجد اسمہ علیہ الصلوۃ و السلام)
دل کی سختی کا سبب:
     حضرتِ سَیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں :'' اگر تو اپنے دل میں سختی یااپنے بدن میں سستی یا اپنے رزق میں محرومی دیکھے تو یقین کرلے تو نے کوئی فضول گفتگو کی ہے ۔''
سلامتی کانسخہ:
    حضرتِ سَیِّدُنا لقمان حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ''بیٹا ! جو رحم کرتا ہے اس پر رحم کیاجاتاہے اور جو خاموش رہتا ہے وہ سلامت رہتاہے اور جو اچھا کام کرتاہے وہ غنیمت پاتا ہے اورجو برا کام کرتاہے وہ گنہگا ر ہوتا ہے اور جو ا پنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتا وہ نادم ہوتا ہے۔''

چنداشعار
اِحْفَظْ لِسَانَکَ اَیُّھَا الْاِنْسَانُ 		لَایَقْتُلَنَّکَ اِنَّہُ ثُعْبَانُ

کَمْ فِیْ الْمَقَابِرِ مِنْ قَتِیْلِ لِسَانِہِ		کَانَتْ تَھَابُ لِقَائَہُ الشِّجْعَانُ
ترجمہ: (۱)اے انسان! اپنی زبان کی نگہبانی کر ،یہ کہیں تجھے ہلاکت میں نہ ڈال دے ،بے
Flag Counter