| آنسوؤں کا دریا |
حضرتِ سَیِّدُنا معا ذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ،صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ،فیض گنجینہ ،شہنشاہ ِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: ''کونسا عمل سب سے افضل ہے؟''تونور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان مبارک باہر نکال کر اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ (یعنی زبان کی حفاظت کرنا سب سے افضل کام ہے)
(ابن ابی الدنیا،کتاب الصمت وآداب اللسان،باب حفظ اللسان وفضل الصمت،رقم۸،ج۷،ص۳۰۔۳۱)
زیادہ گفتگو باعث ِ ہلاکت ہے:
امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا علی بن ابو طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اپنے بیٹے سیدناامام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:''اپنی زبان کو قابو میں رکھو کیونکہ آدمی کی ہلاکت زیادہ گفتگو کرنے میں ہے ۔''
اپنی زبان پر قابورکھو:
امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن لوگو ں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :'' اے ابن آدم ! تم لوگو ں کو تونیک کام کرنے کی ترغیب دیتے ہو لیکن اپنے آپ کو چھوڑ دیتے ہو، اے ابن آدم!تم لوگو ں کو تو نصیحت کرتے ہو جبکہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، اے ابن آدم! تم مجھے پکارتے ہو پھر بھی مجھ سے دور بھا گتے ہو اگر ایسا ہی ہے جیسا تم کہہ رہے ہو تو اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور اپنے گناہوں کویاد رکھو اور اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔''