Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
237 - 303
نہیں کروں گی اور اپنی زبان کو اللہ عزوجل کے لئے روکے رکھوں گی۔'' تو اللہ عزوجل نے اس عمر کے بچے کی زبان کھول دی جس عمر کے بچےعمومی طور پر گفتگو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اسے حضرتِ سَیِّدُتنا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وجہ سے بولنا سکھایا،لہذاجو شخص دنیامیں اللہ عزوجل کے لئے اپنی زبان کی حفاظت کریگا۔ اللہ عزوجل اس کی موت کے وقت کلمۂ شہادت اور اللہ عزوجل سے ملاقات کے وقت اس کی زبان کو کھول دے گااور جس نے اپنی زبان کو مسلمانوں کی عزت پامال کرنے میں ملوث کیا اوران کی پوشیدہ باتو ں کو جاننے میں لگا رہا اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو موت کے وقت کلمہ شہادت سے روک دے گا ۔(یعنی اسے کلمۂ شہادت پڑھنے کی تو فیق نہیں ملے گی ۔)
زیادہ بولنے والے کی غلطیاں بھی زیادہ:
    نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے :'' جس کا کلام زیادہ ہوگا اس کی لغزشیں زیادہ ہو ں گی اور جس کی لغزشیں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے جہنم اس کی زیادہ حقدار ہوگی۔''
 (مجمع الزوائد ،کتاب الزہد ،باب ماجاء فی الصمت و حفظ اللسان ،الحدیث ۱۸۱۷۲،ج۱۰ ص۵۴۲)
منہ میں پتھر لئے رہتے:
    اسی لئے امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے منہ مبارک میں پتھر رکھا کرتے تھے تا کہ اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو (فضول)گفتگو کرنے سے روک سکیں ۔
 (المعجم الاوسط من اسمہ محمد ، رقم ۶۵۴۱،ج ۵، ص ۴۷)
Flag Counter