سرکارِ مدینہ ،قرارِقلب وسینہ ،صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ،فیضِ گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ پایا تو ان کے بارے میں پوچھا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا :'' وہ بیمار ہیں۔'' تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل کر ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب ان کے پاس پہنچے تو فرمایا :'' اے کعب ! تجھے مبارک ہو۔'' تو حضرتِ سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی والد ہ نے کہا :''اے کعب! تجھے جنت مبارک ہو۔'' تو رسولِ اکرم ،نورِمجسَّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' یہ اللہ عزوجل کے متعلق قسم کھانے والی عورت کون ہے؟ '' حضرتِ سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالی عنہ عرض گزار ہوئے :'' میری والدہ ہیں ۔'' فرمایا: ''اے کعب کی ماں ! تجھے کیاپتا شاید کعب نے کوئی غیرضروری (یعنی فضول)بات کی ہو یاسنی ہو۔''