Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
236 - 303
خاموش رہنے کی فضیلت
    سرکارِ مدینہ ،قرارِقلب وسینہ ،صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ،فیضِ گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ پایا تو ان کے بارے میں پوچھا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا :'' وہ بیمار ہیں۔'' تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل کر ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب ان کے پاس پہنچے تو فرمایا :'' اے کعب ! تجھے مبارک ہو۔'' تو حضرتِ سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی والد ہ نے کہا :''اے کعب! تجھے جنت مبارک ہو۔'' تو رسولِ اکرم ،نورِمجسَّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' یہ اللہ عزوجل کے متعلق قسم کھانے والی عورت کون ہے؟ '' حضرتِ سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالی عنہ عرض گزار ہوئے :'' میری والدہ ہیں ۔'' فرمایا: ''اے کعب کی ماں ! تجھے کیاپتا شاید کعب نے کوئی غیرضروری (یعنی فضول)بات کی ہو یاسنی ہو۔''
(تاریخ بغداد ،ذکر من اسمہ احمد واسم ابیہ عیسیٰ ،رقم۲۳۳۹،ج۵،ص۲۸)
عبادت کے نوحصے:
    نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے:'' عبادت کے دس حصے ہیں جن میں سے نو حصے خاموشی میں اور ایک حصہ لوگو ں سے دور بھاگنے میں ہے ۔''
 (مسند الفردوس ،باب العین ،ج۴ص۸۶،الحدیث ۴۹۶۲،دون لفظہ وجز فی الفرار من الناس )
     ''حکمت''میں سے ہے کہ عبادت کانوے90 فیصد حصہ خاموشی میں ہے۔ 

     حضرتِ سَیِّدتنا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جب یہ منت مانی کہ ''کسی سے بات
Flag Counter