| آنسوؤں کا دریا |
فرشتوں کو گواہ بنایاکہ میں نے فردو س کی پچا س ہزار حوریں تیرے نکاح میں دیں اور میں اپنے فرمانبردار اور ڈرنے والے بندو ں سے ایسے ہی پیش آتا ہوں۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ،صاحبِ معطر پسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' عورت کے محاسن کی طر ف نظر کرنا اِبلیس کے زہر میں بجھے ہوئے تیرو ں میں سے ایک تیرہے اور جو شخص حرام چیزوں سے اپنی آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیری جائے گی۔''عبادت کی حلاوت:
نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاارشادِ پاک ہے: ''عورت کے محاسن کی طر ف نظر کرنا ابلیس کے زہر میں بجھے ہوئے تیرو ں میں سے ایک تیر ہے ۔جو شخص اپنی آنکھوں کی حفاظت کریگا اللہ عزوجل اسے ایسی عبادت کی تو فیق عطا فرمائے گاجس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔''
(المعجم الکبیر ، رقم ۱۰۳۶۲ ،ج ۱۰، ص ۱۷۳)
جہنم سے آزاد ہونے والی آنکھیں:
اللہ عزوجل نے حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی طر ف وحی فرمائی: '' اے موسیٰ! میں نے تین قسم کی آنکھوں کو جہنم پر حرام فرمادیاہے ، ایک وہ آنکھ جو راہِ خدا عزوجل میں پہرہ دیتی ہے ، دوسری وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیزوں سے رُک جاتی ہے اور تیسری وہ آنکھ جو میرے خوف سے روتی ہے، اورآنسو کے علاوہ ہر شئے کی ایک جزاہے اورآنسو کی جزا رحمت، مغفرت اور جنت میں داخلے کے علاوہ کچھ نہیں۔''