| آنسوؤں کا دریا |
عادی،زنا پراصرار کرنے والا ،چغل خور،دیوث،(ظالم)سپاہی، ہیجڑا اور رشتہ داری توڑنے والااور وہ شخص جو خدا کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ فلاں کام ضرور کرو ں گا پھر وہ کام نہیں کرتا۔''
(اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب آفات اللسان ، ج ۹ ،ص ۳۴۵۔۳۴۶)
زناپر اصرار کرنے والے سے مراد ہمیشہ زنا کرتا رہنے والا نہیں،اسی طرح شراب کے عادی سے مرادیہ نہیں جو ہمیشہ شراب پیتارہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب اسے شراب میسر ہو تو وہ پی لے اور اللہ عزوجل کے خوف کی وجہ سے شراب پینے سے باز نہ آئے اسی طر ح جب اسے زنا کا موقع ملے تو اس سے تو بہ نہ کرے اور نہ ہی اپنے نفس کو اس بر ی خواہش کی تکمیل سے روکے۔ بے شک ایسے لوگو ں کا ٹھکاناجہنم ہی ہے۔
نکاح کی پیش کش:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے بچو ں سے فرمایا کرتے تھے: ''جب تم نکاح کرنا چاہوتو تمہارا نکاح کرادوں گا کیونکہ بندہ جب زنا کرتا ہے تو اس کے دل سے ایمان نکل جاتاہے اور اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ۔''
زنا کی ابتداء اور انتہاء:
حضرتِ سَیِّدُنا لقمان حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ''بیٹا ! زنا سے بچ کر رہنا کیونکہ اس کی ابتداء خوف اور انتہاء ندامت ہے او راس کا انجام جہنم کی وادی آثام ہے ۔'' اشعار
یَامَنْ خَلَا بِمَعَاصِیْ اللہِ فِیْ الظُّلَمِ فِیْ اللَّوْحِ یُکْتَبُ فِعْلُ السُّوْءِ بِالْقَلَمِ