| آنسوؤں کا دریا |
بِھَا خَلَوْتَ وَعَیْنُ اللہِ نَاظِرَۃٌ وَاَنْتَ بِالْاِثْمِ مِنْہُ غَیْرُمُکَتَتِمِ فَھَلْ اَمِنْتَ مِنَ الْمَوْلٰی عُقُوْبَتَہُ یَامَنْ عَصٰی اللہَ بَعْدَ الشَّیْبِ وَالْھَرَمِ
ترجمہ:(۱)اے وہ شخص کہ اندھیرے میں چھپ کر اللہ عزوجل کی نافرمانیاں کرتاہے ، قلم ِقدرت سے نامۂ اعمال میں براعمل لکھا جارہاہے۔
(۲)خَلْوَتیں نافرمانیوں میں گزاررہا ہے حالانکہ اللہ عزوجل کی ذات دیکھ رہی ہے ، تو گناہ کرتے وقت اس سے چھپ نہیں سکتا ۔
(۳)اے جوانی اور بڑھاپا گزارنے کے بعدبھی اللہ عزوجل کی نافرمانی کرنے والے ! کیا تو اللہ عزوجل کے عذاب سے بے خوف ہوگیاہے۔زنا سے بچنے والا:
بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کسی دو سرے شہر کی عورت سے نکاح کیا اور اسے اپنے پاس بلانے کے لئے اپنے قابلِ اعتماد ساتھی کو اس کی طر ف بھیجا ۔تو اس شخص کو اس کے نفس نے ورغلایا اور اس نے عورت سے بدکاری کی خواہش ظاہر کی تو اس وقت اس نے اپنے نفس کو دھمکایا اور اللہ عزوجل سے پناہ مانگی تو اللہ عزوجل نے اسے نفسانی خواہش ترک کر نے کی توفیق عطا فرمائی ۔ اشعار
تَوَقَّ نَفْسَکَ لَا تَاْمَنْ غَوَائِلَھَا فَالنَّفْسُ اَخْبَثُ مِنْ سَبْعِیْنَ شَیْطَانًا
ترجمہ:خودکواپنے نفس سے بچا، اس کی ہلاکتوں سے بے پرواہ نہ ہونا ، کیونکہ نفس سَتّر شیاطین سے زیادہ خطرناک ہے۔
پچاس ہزار حوروں سے نکاح:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اورحضرتِ سَیِّدُنا کعب الاحبار رضی اللہ