| آنسوؤں کا دریا |
(۳)کل قیامت میں جب سوال کئے جائیں گے اور مولیٰ(قہار)عزوجل جہنم کوتجھ سے قریب کردے گا(اس وقت کے لئے )جوابات کی تیاری کرلے ۔
(۴)اے گروہ ِمسلمین!بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جب جہنم میں داخل ہوں گے تووہ انہیں ملامت کرتی ہوگی ۔جہنمی تابوت:
سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ،صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ،فیض گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :'' اپنے بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھ کر اللہ عزوجل کوسب سے زیادہ غیرت آتی ہے ۔خدا عزوجل کی قسم ! اگر تم وہ باتیں جان لو جنہیں میں جانتاہوں تو کم ہنسو اور زیادہ روؤگے ،سن لو ! کہ جہنم میں آگ کے تابوت میں کچھ لوگ قید ہوں گے کہ جب وہ راحت مانگیں گے تو ان کے لئے تابوت کھول دئیے جائیں گے اور جب ان کے شعلے جہنمیوں تک پہنچیں گے تو وہ بیک زبان فریاد کرتے ہوئے کہیں گے:''یا اللہ عزوجل! ان تابوت والوں پر لعنت فرما یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی شرمگاہوں پر حرام طریقے سے قبضہ کرتے تھے۔''
(صحیح البخاری ،کتاب النکاح ،باب الغیرۃ ، رقم ۵۲۲۱،ج ۳ ، ص ۴۶۹،مختصراً)
جنت میں داخلے سے محروم:
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب ، عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ ذیشان ہے : اللہ عزوجل نے جب جنت کو پیدا فرمایاتو اس سے فرمایا :'' کلام کر۔'' تو وہ بولی :'' جومجھ میں داخل ہوگا وہ سعادت مند ہے ۔''تو اللہ عزوجل نے فرمایا: '' مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! تجھ میں اٹھ قسم کے لوگ داخل نہ ہوں گے: شراب کا