آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا :'' اے عورت ! تجھے کیا صدمہ پہنچا ہے ؟ ''عرض کرنے لگی :'' یامحمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! میرا بچہ میرے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک غائب ہوگیا اور اس کے بغیر میرا گھر ویران ہوگیا ہے۔''
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' اگر اللہ عزوجل میرے ذریعہ تمہارے بچے کو لوٹادے تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گی۔'' عورت بولی:'' جی ہاں! مجھے انبیاء کرام حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم ، حضرتِ سَیِّدُنا اسحق اور حضرتِ سَیِّدُنا یعقوب علیہم السلام کے حق ہونے کی قسم ! میں ضرور ایمان لے آؤں گی۔''
رَحْمۃٌلِّلْعٰلَمِین ،شفیع المذنبین ،اَنِیس الغریبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں پھر دیر تک دعا مانگتے رہے ۔جب دعا مکمل ہوئی تو بچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے موجود تھا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے پوچھا کہ ''تو کہاں تھا؟'' بولا :'' میں اپنی ماں کے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک (عفریت نامی ) ایک کافر جن میرے سامنے آیا اور مجھے اٹھا کر سمندر کی طرف لے گیا ۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگی تو اللہ عزوجل نے ایک مؤمن جن کو اس پر مسلط کردیا جو جسامت میں اس سے بڑا اور طاقتور تھا۔ اس نے مجھے کافر جن سے چھین کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا دیا اوراب میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حاضر ہوں،اللہ عزوجل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمپر رحمت ناز ل فرمائے۔''وہ عورت یہ واقعہ سنتے ہی کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)