| آنسوؤں کا دریا |
جبرئیلِ امین علیہ السلام لے کر آئے اور اس میں حظیرۃ القدس کا پانی تھا اوررومال تمہیں حضرتِ سَیِّدُنا میکائیل علیہ السلام نے دیا تھا ،حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام نے مجھے رکوع سے سر اٹھانے سے روکے رکھا یہاں تک کہ تم اس رکعت میں آکر مل گئے، اے ابو الحسن ! جو تم سے محبت کریگا اللہ عزوجل اس سے محبت کریگا اور جو تم سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اسے ہلاک کردے گا ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
ایک یہودن کا قبول ِ اسلام:
ایک مرتبہ نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور،دوجہاں کے تاجور،محبوب رب اکبرعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی عورت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روتی ہوئی حاضر ہوئی اور یہ اشعار پڑھنے لگی:
بِاَبِیْ اَفْدِیْکَ یَانُوْرَ الْفَلَکِ لَیْتَ شَعْرِیْ اَیُّ شَیْئ قَتَلَکْ غِبْتَ عَنِّی غَیْبَۃً مُّوْحِشَۃً اَتُرٰ ی ذِئْبٌ یَھُودِیٌّ اَکَلَکْ اِنْ تَکُنْ مَیْتًا فَمَا اَسْرَعَ مَا کَانَ فِیْ اَمْرِ اللَّیَالِیْ اَجلک اَوْ تَکُنْ حَیًّا فَلَا بُدَّ لِمَنْ عَاشَ اَنْ یَّرْجِعَ مِنْ حَیْثُ سَلَکْ
ترجمہ:(۱)اے میرے چاند(یعنی میرے بیٹے)میرا باپ تم پرفدا ، کاش! مجھے تیرے قاتل کاعلم ہوتا۔
(۲)تیرامجھ سے یوں اوجھل ہوناوحشت ناک ہے ، کیا تجھے یہودی بھیڑیا کھاگیاہے۔
(۳)اگرتوفوت ہوچکاہے توراتوں رات تیرایہ مرجاناکس قدرجلدہواہے۔
(۴)اگر توزندہ ہے تو تجھ پرلازم ہے کہ جہاں سے چلاتھاجیتے جی وہیں پلٹ آ۔